اپ ڈیٹ: 10 July 2019 - 08:54
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے عراق کے نئے وزیرخارجہ محمد علی الحکیم سے پہلی ٹیلی فونی گفتگو میں اربعین حسینی کے ملین مارچ اور تہران و بغداد کے تعلقات میں زیادہ سے زیادہ توسیع پر بات چیت کی ہے۔
خبر کا کوڈ: ۲۸۸۰
تاریخ اشاعت: 20:24 - October 26, 2018

اربعین ملین مارچ ایران اور عراق کے تعلقات میں استحکام کامظہرمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیرخارجہ ڈاکٹرمحمد جواد ظریف نے عراق کے نئے وزیرخارجہ سے اپنی ٹیلی فونی گفتگو میں اربعین حسینی کے عظیم الشان ملین مارچ کے دینی اورمذہبی پہلوؤں کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ اربعین مارچ اہل بیت عصمت و طہارت کی عظمت اور ان کے حضور احترام و عقیدت کے اظہار کی علامت کے ساتھ ساتھ ایرانی اورعراقی اقوام کے اتحاد و یگانگت کا بھی مظہر ہے -

عراق کے نئے وزیرخارجہ محمد علی الحکیم نے بھی اربعین حسینی کے زائرین کو عراق کی حکومت اور عوام کا مہمان قراردیا انہوں نے عتبات عالیات کی زیارت کے لئے عراق پہنچنے والے زائرین کی پذیرائی اور انہیں مکمل سہولتیں فراہم کرنے کا پورا یقین دلایا -

ایران اورعراق دوہمسایہ ملک ہونے کے ساتھ ساتھ باہمی تعاون کے میدان میں بے شمار اشتراکات کے حامل ہیں اور دونوں اقوام کے درمیان تعاون اور اتحاد کا نقطہ عروج اربعین حسینی کا ملین مارچ ہے -

ہرسال ہونے والا اربعین ملین مارچ ایران اور عراق کے عوام کے درمیان دوستی اور محبت کو پہلے سے بھی زیادہ استحکام بخشتا ہے اور پرامن بقائے باہمی اور دوستی و بھائی چارے کا شاندار جلوہ پیش کرتا ہے - یہ ایام جو سید الشہدا حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب باوفا کے سچے عاشقوں اور پیروؤں کی طاقت کے اظہار کے ایام ہیں اس حسینی جلوے کے تعلق سے ایران اور عراق کی اقوام کے کردار بھی نمایاں کرتےہیں -

اربعین حسینی میں شرکت کرنے والے دسیوں لاکھ زائرین کی عراقی عوام کے ذریعے والہانہ اور مخلصانہ پذیرائی اعلی سطح پر اسلامی اتحاد کا عظیم الشان مظاہرہ ہے - اربعین حسینی کے ملین مارچ نے ایران اورعراق کے تعلقات کی اہمیت کو کئی گنا اجاگر کیا ہے اور اسی تناظر میں دونوں ملکوں نے نو شقوں اور اکہتر ذیلی شقوں پر مشتمل ایک مفاہمتی نوٹ پر دستخط بھی کئے ہیں -

اربعین حسینی میں شرکت کرنے والے زائرین کی سیکورٹی اور متعلقہ اداروں کے تعاون کے طریقہ کار پراس مفاہمتی نوٹ پر خاص توجہ دی گئی ہے - اربعین حسینی کے ایام میں ایران اورعراق کے مابین تعاون اور سرانجام چہلم کے دن پوری سیکورٹی اور امن و سلامتی کے ماحول میں دسیوں لاکھ زائرین کی کربلائے معلی میں موجودگی مسلمانوں کی طاقت و قوت کے اظہار کے لئے اس تعمیری تعاون کی اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے -

ہرسال مکمل امن و سکون کے ماحول میں اربعین حسینی کا ملین مارچ ایران اور عراق کے اسٹریٹجک تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے اور اسی تعلقات کے زیرسایہ ہی عراق میں داعشی دہشت گردی کی سازش کی شکست کے بعد پورے عراق میں امن وسکون کی فضا قائم ہوئی ہے -

دوسری جانب بغداد میں ہمارے نمائندے نے خبردی ہے کہ دیالہ اور صلاح الدین صوبوں کے پیدل زائرین کے بغداد پہنچنے اور ساتھ ہی وہاں بڑی تعداد میں ایرانی زائرین کی موجودگی سے پورے عراقی دارالحکومت پر اربعین حسینی کی فضا حکمفرما ہوگئی ہے - بغداد میں قائم کئے گئے موکب کے منتظمین اور کارکنوں نے جو پچھلے چند روز کے دوران دیگر شہروں سے بغداد کے راستے کربلا جانے والے زائرین کی پذیرائی میں مشغول تھے دیالہ اور صلاح الدین صوبوں کے پاپیادہ زائرین کے بغداد پہنچتے ہی انہوں نے زائرین خوش آمدید کے نعروں کے ساتھ ان کا والہانہ استقبال کیا -

عراق کے شمالی علاقوں کے زائرین ہر سال دوطرف سے بغداد پہنچتے ہیں اور پھر وہ بغداد کے الدورہ کے علاقے میں اکٹھا ہوتے ہیں اس کے بعد وہاں سے کربلا تک کا ایک دس کلومیٹر کا فاصلہ پاپیادہ طے کرتے ہیں - 

اربعین حسینی میں شرکت کرنے والے زائرین کا پیدل قافلہ عراق کے جنوبی صوبے بصرہ کے شہر البیشہ سے یکم صفر کو روانہ ہوا تھا - البیشہ سے کربلائے معلی تک کا فاصلہ چھے سو کلومیٹر ہے قافلے میں شریک عاشقان حسینی دوہفتے تک پیدل سفر کرنے کے بعد نجف اشرف اور کربلا پہنچے ہیں -

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں