اپ ڈیٹ: 10 July 2019 - 08:54
ایران کے وزیر خارجہ نے دو ایرانی شہریوں کے خلاف پابندی عائد کرنے سے متعلق امریکی وزارت خزانہ کے اقدام پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ امریکہ نے استنبول میں سعودی مظالم اور یمن پر اس کی جارحیت سے رائے عامہ کی توجہ ہٹانے کے لئے ایران کے خلاف مزید پابندیاں عائد کر دیں۔
خبر کا کوڈ: ۲۸۷۳
تاریخ اشاعت: 21:26 - October 25, 2018

امریکی پابندیاں سعودی مظالم سے توجہ ہٹانے کوشش ہیں، ایرانی وزیر خارجہمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی وزارت خزانہ نے افغان طالبان کے خلاف نئی پابندیوں کے نفاذ کا دعوی کرتے ہوئے آٹھ افراد منجملہ دو ایرانی شہریوں کو بھی پابندیوں میں شامل کر لیا۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بدھ کو ٹوئٹ کیا کہ امریکی وزارت خزانہ بھول گئی ہے کہ واشنگٹن آج بھی طالبان گروہ کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے اور وہ ہمیشہ طالبان کی حمایت کرتا رہا ہے۔

امریکہ کی جانب سے ان پابندیوں کا اعلان ایسے وقت کیا گیا ہے جب استنبول میں سعودی قونصل خانے میں مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی بنا پر سعودی عرب پر شدید عالمی دباؤ پڑ رہا ہے اور کوئی بھی ملک سعودی عرب کی صفائی کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں