اپ ڈیٹ: 10 July 2019 - 08:54
ترکی کے شہر استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے میں مخالف صحافی جمال خاشقجی کے لاپتہ ہونے کے اٹھارہ دن بعد سعودی حکومت کی جانب سے ان کے قتل کا اعتراف اس بات کا باعث بنا ہے کہ امریکی کانگریس کے بعض اراکین سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے تعلقات پر نظرثانی اور جنگ یمن میں ریاض کے لئے واشنگٹن کی حمایت بند کئے جانے کی ضرورت پر زور دیں
خبر کا کوڈ: ۲۸۵۸
تاریخ اشاعت: 22:12 - October 20, 2018

سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کی ضرورت پر امریکی اراکین کانگریس کی تاکیدمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، دو اکتوبر کو ترکی کے شہر استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے میں مخالف صحافی جمال خاشقجی کے داخل اور پھر لاپتہ ہونے کے بعد سعودی قونصل خانے سے ان کے باہر نکلنے کے بارے میں سعودی حکومت اور ذرائع ابلاغ کے دعؤوں کے باوجود ہفتے کے روز سعودی عرب کے شاہی دیوان نے آخرکار اس خبر کی تصدیق کر ہی دی کہ مخالف صحافی جمال خاشقجی کا قتل ہو گیا ہے۔

سعودی عرب کے اٹارنی جنرل کے دعوے کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ مخاف صحافی اور ان افراد کے درمیان کہ جنھوں نے دو اکتوبر کو استنبول میں سعودی عرب کے قونصل خانے میں ان سے ملاقات کی تھی، ہاتھا پائی ہوئی جس کے نتیجے میں جمال خاشقجی کا قتل ہو گیا۔

دریں اثنا امریکی کانگریس اور سینیٹ میں سینیئر ڈیموکریٹ اراکین نے ترکی میں مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں ریاض حکومت کے دعوے کو مسترد کر دیا۔

سینیئر ڈیموکریٹ سینیٹر اور امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے رکن کرس مورفی نے مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں ریاض حکومت کے اعتراف پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے تعلقات پر بنیادی طور پر نظرثانی کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔امریکہ کے اس سینیٹر نے سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت بھی بند کئے جانے کا منصوبہ پیش کیا جو کسی نتیجے پر نہیں پہنچا۔

آزاد امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے بھی کرس مورفی کی مانند ریاض کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات پر نظرثانی کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔ایک اور سینیئر ڈیموکریٹ سینیٹر الیزابیتھ وارن نے بھی سعودی عرب کو ہتھیاروں  کی فروخت بند کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈیموکریٹ سینیٹر اور امریکی سینیٹ کی مسلح امور کی کمیٹی کی دوسری بڑی شخصیت جیک ریڈ نے بھی امریکی نامہ نگاروں سے گفتگو میں یمن پر سعودی عرب کے فضائی حملوں پر امریکہ کی حمایت ختم کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔جیک ریڈ کے بقول مخالف صحافی جمال خاشقجی کے کیس سے قطع نظر امریکہ کو چاہئے کہ یمن پر بمباری کرنے والے سعودی اتحاد کے طیاروں کو ایندھن فراہم کرنا بند کر دے۔

ایک اور ڈیموکریٹ سینیٹر جیف مرکلی نے کہا ہے کہ موجودہ صورت حال میں سعودی عرب کے لئے واشنگٹن کی حمایت نے امریکہ کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق تنقید صرف ڈیموکریٹس اراکین تک ہی تک محدود نہیں ہے بلکہ امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین باب کروکر اور لینڈسی گراہم جیسے سینیئر ریپبلکن اراکین نے بھی ریاض کے وضاحتی بیان کو ناقابل قبول قرار دیا ہے تاہم وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ اسے ریاض کی باتوں پر پورا یقین ہے۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں