اپ ڈیٹ: 10 July 2019 - 08:54
نیویارک میں جاری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ہالینڈ، آسٹریا، الجزائر اور شام کے وزرائے خارجہ نے ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے الگ الگ ملاقات اور اہم عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
خبر کا کوڈ: ۲۶۵۰
تاریخ اشاعت: 19:15 - September 29, 2018

نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ کی بھرپور سفارت کاریمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، الجزائر کے وزیر خارجہ عبدالقادر مساہل نے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے ساتھ ملاقات میں علاقائی مسائل، باہمی اقتصادی اور سیاسی تعلقات کے فروغ نیز ایٹمی معاہدے کی تازہ ترین صورت حال کے بارے میں گفتگو کی۔

آسٹریا کی وزیر خارجہ کارین نیسل نے بھی ایران کے وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں ایٹمی معاہدے پر علمدرآمد، امریکہ کی جانب سے اس معاہدے کی خلاف ورزی نیز ایران اور یورپی ملکوں کے درمیان تعاون کے علاوہ اہم ترین علاقائی مسائل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔

ہالینڈ کے وزیر خارجہ اسٹیف بلاک نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے ملاقات کی اور جامع ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کے حوالے سے پورپ کے مجوزہ اقتصادی پیکیج کے بارے میں بات چیت کی۔

ملاقات میں امریکی پابندیوں کو غیر موثر بنانے والے یورپی قانون پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے ضمن میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ تعلقات اور شام میں قیام امن کے سلسلے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس ملاقات میں ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے شام کے بحران کو گفتگو کے ذریعے حل کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی۔

ایران کے وزیر خارجہ، نیویارک میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ملاقاتوں میں باہمی تعلقات کے فروغ اور ایٹمی معاہدے کے خلاف ورزی اور امریکی اقدامات کی روک تھام کے حوالے سے سفارتی کوششیں انجام دے رہے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ نے ایران کے تجارتی اور بینکاری مفادات کی تکمیل اور ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کے لیے یورپی پیکیج پر مکمل عملدرآمد کو ضروری قرار دیا ہے۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں