اپ ڈیٹ: 10 July 2019 - 08:54
دنیا کو پر امن بنانے کیلئے ایٹمی ہتھیاروں کو تلف کرنا ناگزیرہو گیا ہے۔
خبر کا کوڈ: ۲۳۳۹
تاریخ اشاعت: 12:46 - August 29, 2018

29 اگست ایٹمی ہتھیاروں کی روک تھام کا دنمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، انیسویں صدی کے وسط میں امریکا سمیت دیگر ترقی یافتہ ممالک ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی دوڑ میں شامل ہوئے اور وقتا فوقتا ان ممالک کی جانب سے اپنے تیار کردہ ایٹمی ہتھیاروں کو جانچنے کے لیے تجربات بھی کیے جاتے رہے، جن میں سے زیادہ تر خفیہ طور پر نامعلوم مقامات پر کیے گئے جبکہ کئی ممالک جیسے امریکہ نے باقاعدہ اعلان کے ساتھ اپنے ایٹم بم اور دیگر نیو کلیئر ہتھیاروں کے تجربات کیے جس کا مقصد اپنے حریف ممالک کو دبانا اور علاقے میں اپنا تسلط قائم کرنا تھا۔

تاریخ میں پہلا ایٹمی دھماکہ 16 جولائی 1945 کو امریکا نے جس مقام پر کیا اسے ٹرانیٹی سائٹ کہا جاتا ہے، اس تجربے میں جو ایٹم بم استعمال کیا گیا وہ 20 ٹن ٹی این ٹی کی طاقت کا تھا، ٹی این ٹی طبیعات میں کسی ایٹمی دھماکے کی شدت کو ظاہر کرنے کی اکائی ہے۔

جنگ عظیم دوئم کے دوران امریکا نے اپنے حریف جاپان کو شکست دینے کے لیے پہلی دفعہ ایٹم بم کا استعمال کرتے ہوئے 6 اگست 1945 کو اسے جاپان کے گنجان آبادی والے شہر ہیروشیما اور محض 3 دن بعد یعنی 9 اگست کو دوسرے شہر ناگا ساکی پر گرایا، ان حملوں اور تابکاری کے شدید ترین اثرات کی وجہ سے اگلے 3 سے چار ماہ میں ہیرو شیما میں 90 ہزار سے لے کر 1 لاکھ 46 ہزار افراد کی ہلاکتیں ہوئیں جب کہ ناگاساکی پر صورتحال نسبتا کم کشیدہ رہی اور یہاں 39 سے 80 ہزار شہریوں کی ہلاکت ریکارڈ کی گئی، ان حملوں میں لاکھوں افراد تابکاری کے اثرات سے جنم لینے والے کینسر اور دیگر مہلک جلدی امراض اور قحط کا شکار ہو کر ایڑیاں رگڑ کر مرتے رہے۔

ان حملوں کے بعد 15 اگست کو جاپان کو مخالفین کے سامنے سر تسلیم خم کرنا پڑا اور یوں 2 شہروں کے اجڑنے اور لاکھوں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت کے بعد 2 ستمبر 1945 کو یہ خونی جنگ اپنے اختتام کو پہنچی ۔

ان 2 جاپانی شہروں پر ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کرکے طاقت کے نشے میں دھت امریکی حکومت اور فوجی سربراہان کے عزائم کچھ اور بڑھ چکے تھے، لہذا یکم نومبر 1952 کو امریکا میں واقع مارشل آئی لینڈ میں پہلی انجینئرڈ تھرمو نیوکلیئر ڈیوائس 'آئی وی مائک' کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔

اس کے بعد اس دور کی دوسری سپر پاور سوویت یونین نے ایٹم بم کی تیاری کے عمل کو مزید تیز تر کردیا اور 30 اکتوبر 1961 کو کیے جانے والے سوویت یونین کے ایٹمی ہتھیاروں کے تجربے کو تاریخ کے طاقتور ترین ایٹمی دھماکے کی حیثیت حاصل ہے جس کی شدت 50 سے 58 میگا ٹن تھی۔

اس شدت کے دھماکے کا اصل مقصد یقینا اپنے سیاسی حریف امریکا پر فوجی و دفاعی برتری ثابت کرنا تھا، لہذا اس گھمبیر صورتحال سے نمٹنے اور کسی تیسری جنگ عظیم کے خطرے کو ٹالنے کے لیے 1963 میں ایٹمی طاقت رکھنے والے 4 میں سے 3 ممالک برطانیہ،امریکا اور سوویت یونین نے بڑھتے ہوئے ایٹمی تجربات کو روکنے اور نیوکلیئر پاور کے پرامن استعمال کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے، جسے ایل ٹی بی ٹی کا نام دیا گیا،اس پر کئی ایسے ممالک نے بھی دستخط کیے جن کے پاس ایٹمی طاقت نہیں تھی مگر وہ اس کے حصول کے لیے کوشاں ضرور تھے۔

اس کے باوجود فرانس نے 1974 تک اور چین نے 1980 تک کھلی فضاء میں اپنے تیار کردہ ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات جاری رکھے، کیوں کہ یہ ممالک ایل ٹی بی ٹی میں شامل نہیں تھے، جبکہ اس معاہدے کے پابند ممالک اس کے بعد زیر زمین تجربات کرتے رہے۔

امریکا نے اپنا آخری زیر زمین ایٹمی تجربہ 1992 میں برطانیہ نے 1991 میں کیا، جب کہ فرانس نے 1996 تک اس سلسلے کو جاری رکھا۔

لہذا 1996 میں ایٹمی طاقت رکھنے والے 8 ممالک نے ایک نئے معاہدے پر دستخط کیے، اسے 'سی ٹی بی ٹی' کا نام دیا گیا، اس کے باوجود اس معاہدے میں شامل کئی ممالک خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیاروں کے تجربات کرتے رہے، جبکہ امریکا نے افغانستان، عراق اور شام میں بڑے پیمانے پر نیوکلیئر اور کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا جس سے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے علاوہ یہاں ماحولیاتی و جغرافیائی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔

واضح رہے کہ عراق اور شام پر امریکی چڑھائی کے لیے دنیا کے سامنے یہ جواز پیش کیا گیا تھا کہ ان ممالک کے پاس مہلک ایٹمی و کیمیائی ہتھیار موجود ہیں اور ان کے حکمران عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں، اگرچہ امریکا اس امر سے ہمیشہ انکاری رہا ہے مگر اس امر کے شواہد موجود ہیں کہ امریکا نے افغانستان میں اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے دیگر سرکردہ لیڈروں کی ہلاکت کے لیے طورہ بورہ کے پہاڑی سلسلے پر کلسٹربم اور مہلک کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا، جس کا ایک خفیہ مقصد اپنے تیار کردہ ایٹمی و کیمیائی ہتھیاروں کا تجربہ بھی تھا۔

ایٹمی و نیوکلیئر ہتھیاروں کی بدولت جنم لینے والی اس اندوہناک صورتحال کو دیکھ کر 2009 میں اقوام متحدہ کے 64 ویں اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ 29 اگست کو ہرسال ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے خلاف اس دن کو عالمی دن کے طور پر منایا جائے گا، جس کا مقصد دنیا بھر میں عام افراد،ایٹمی طاقت کے حامل ممالک اور اس کے حصول کے لیے سرگرداں کئی اور ممالک کی حکومتوں اور ذمہ دار افراد میں ان کی ہلاکت خیزی کے لیے شعور اجاگر کرنا ہے۔

2010 سے دنیا بھر میں 29 اگست کو ایٹمی ہتھیاروں کی روک تھام کا دن کے طور پر منایا جا رہا ہے اس روز کانفرنسز، ورک شاپس، لیکچرز، تصاویر اور لکھنے کے ایسے مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں جس کے ذریعے ان کی ہلاکت خیزی کو واضح کیا جاسکے، تاکہ دنیا بھر میں ان پر مکمل پابندی عائد کی جاسکے لیکن اس کے باوجود اس وقت اسرائیل کے پاس 400 کے قریب ایٹمی وارھیڈز ہیں لیکن اس سے کوئی نہیں پوچھتا کہ کیوں کر وہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

پیغام کا اختتام/

آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں