اپ ڈیٹ: 10 July 2019 - 08:54
ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے نکل جانے کے بعد اراک کے بھاری پانی کے ری ایکٹر کی تعمیر نو کے کام میں برطانیہ نے امریکہ کی جگہ لے لی ہے۔
خبر کا کوڈ: ۲۲۵۰
تاریخ اشاعت: 20:41 - August 22, 2018

پرامن ایٹمی پروگرام شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے ۔ ڈاکٹر صالحیمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر علی اکبر صالحی کا کہنا تھا کہ ایٹمی معاہدے کے بعد اراک کے بھاری پانی کے ری ایکٹر کی تعیمر نو  کا کام امریکہ اور چین کے ذمہ تھا تاہم امریکہ نے ایٹمی معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدگی اختیار کرلی جس کے بعد اس کی جگہ برطانیہ نے لے لی۔

ڈاکٹر علی اکبر صالحی کا کہنا تھا کہ ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیاں پروگرام کے مطابق جاری ہیں اور اس حوالے سے ہمارے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ایٹمی معاہدے سے نکل جانے کے باوجود ایٹمی تحقیق و ترقی، نئے ایٹمی بجلی گھروں کی تیاری، ریڈیائی دواؤں کی تیاری اور نیوکلیئر اسپتالوں کی تعمیر میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی اور تمام ایٹمی منصوبوں پر پروگرام کے مطابق کام جاری ہے۔ایران کے ایٹمی توانائی ادارے کے سربراہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ امریکہ کی جانب سے دوبارہ پابندیاں عائد کیے جانے سے بھی ایٹمی سرگرمیوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

ڈاکٹر صالحی نے کہا کہ ایران کے ایٹمی منصوبوں کے بڑے حصے پر ایرانی ماہرین یا روس کے تعاون سے کام کیا جارہا ہے اور روس نے اب ہونے والے سمجھوتوں پر مکمل عمل کیا ہے۔انہوں نے بوشھر ایٹمی بجلی گھر کے دوسرے فیز کی تعمیر میں پیشرفت کی خبر دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے پر کام شیڈول سے آگے ہے اور ہمیں امید ہے کہ آئندہ چھے برس میں بجلی کی پیداوار شروع کردی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ دوسرے فیز کے افتتاح کے دوسال کے بعد تیسرے فیز کو نیشنل گرڈ سے منسلک کردیا جائے گا۔اس سے پہلے ایران کے ایٹمی ادارے کے ترجمان بہروز کمالوندی نے کہا تھا کہ اراک کے بھاری پانی کی تعمیر نو کا کام چین اور برطانیہ کے تعاون سے جاری ہے اور امریکہ کے ایٹمی معاہدے سے نکل جانے کے باوجود مذکورہ ری ایکٹر کی تعمیر کا کام ایک دن بھی نہیں رکا ہے۔

دوسری جانب جرمن وزیر خارجہ نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ جامع ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کے لیےامریکی مداخلت سے پاک مالی ٹرانزیکش کا آزادانہ نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے۔الجزیرہ ٹیلی ویژن کے مطابق جرمن وزیر خارجہ ہیکوماس کا کہنا ہے کہ ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کے لیے یورپ کو امریکی مداخلت سے پاک ایک خود مختار مالیاتی نظام قائم کرنا ہوگا۔

برطانوی وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ لندن ایٹمی معاہدے کے بارے میں امریکی پالسی کا مخالف ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ برطانیہ کو اس معاہدے میں باقی رہنا ہوگا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں برس آٹھ مئی کو ایران کے خلاف بے بنیاد دعوؤں کا اعادہ کرتے ہوئے ایٹمی معاہدے سے اپنے ملک کی علیحدگی کور تہران کے خلاف تمام پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی صدر کے اس اقدام پر دنیا بھر میں سخت ردعمل ظاہر کیا گیا تھا۔اگرچہ یورپ نے ایٹمی معاہدے میں باقی رہنے کا اعلان کیا ہے کہ تاہم ایران کا کہنا ہے کہ ایٹمی معاہدے کی بقا کا انحصا یورپ کے ٹھوس اور عملی اقدامات اور اس معاہدے کے تحت ایران کے مفادات کی تکمیل ہر ہے۔

پیغام کا اختتام/
آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں