اپ ڈیٹ: 10 July 2019 - 08:54
فلسطینی تحریک حماس نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں صیہونی ریاست کے بل کی منظوری کو صیہونی نسل پرستی کو قانونی شکل دینے کے مترادف قرار دیا ہے۔
خبر کا کوڈ: ۱۸۸۷
تاریخ اشاعت: 21:54 - July 19, 2018

اسرائیل نے نسل پرستی کو قانونی شکل دے دی ہے۔ حماسمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، حماس کے ترجمان فوزی برھوم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نسل پرستانہ قانون کی منظوری سے، سرزمین فلسطین میں فلسطینیوں کے قیام اور ان کے تاریخی حق کا معاملہ خطرے میں پڑ جائے گا اور فلسطینیوں کی زمینیں کھلم کھلا غصب کی جانے لگیں گی۔

جہاد اسلامی فلسطین کے سینیئر رکن یوسف الحساینہ نے بھی کہا ہے کہ اس بل کی منظوری کا مقصد انیس سو اڑتالیس کے مقبوضہ علاقوں سے فلسطینیوں کی مکمل نابودی کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ باہمی اتحاد و یکجہتی اور علاقائی و عالمی تعاون کے ذریعے اس خطرناک سازش کا مقابلہ کیے جانے کی ضرورت ہے۔

صیہونی حکومت نے جمعرات کو صیہونی ریاست کا بل منظور کرلیا ہے جس کے تحت پوری سرزمین فلسطین صرف صیہونیوں  کی ہوگی اور فلسطینیوں کو ان کے پیدائشی شہری اور انسانی حقوق سے محروم ہونا پڑے گا۔

پیغام کا اختتام/
آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں