اپ ڈیٹ: 10 July 2019 - 08:54
امریکہ اور میکسیکوکی سرحد پر پناہگزین بچوں کو ان سے والدین سے جدا کرنے کے معاملات سامنے آنے کے بعد امریکہ کے اندر و باہر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔
خبر کا کوڈ: ۱۶۰۷
تاریخ اشاعت: 20:24 - June 17, 2018

تارکین وطن کے خلاف امریکہ کے وحشیانہ اقدامات پر تنقیدمقدس دفاع نیوز ایجنسی کی بین الاقوامی رپورٹر رپورٹ کے مطابق، امریکی حکومت نے تارکین وطن کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت انسانی حقوق کے مسلمہ اور بنیادی اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔

امریکی ادارے ہوم لینڈ سیکورٹی کے مطابق گزشتہ چھے ہفتے میں امریکی سرحد پرغیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن کے نتیجے میں تقریباً دو ہزار بچوں کو ان کے والدین سے جدا کر کے امریکہ اور میکسیکو کی سرحدوں پر قائم کئے گئے خصوصی کیمپوں میں قید کردیا گیا ہے۔ہوم لینڈ سیکورٹی اہلکاروں کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن والدین کی گود سے روتے ہوئے بچوں کو زبردستی لینے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد مقامی سیاستدانوں، چرچ گروپ اور بچوں کے تحفظ پر مشتمل غیر سرکاری تنظیموں نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔بعض تارکین وطن نے بتایا کہ دودھ پیتے بچوں کو بھی ان کی ماؤں سے چھین لیا گیا۔امریکی حکام کا دعوی ہے کہ ان بچوں کے والدین ان کی امریکہ اسمگلنگ کے مرتکب ہوئے ہیں لہذا بچوں کو ان سے الگ کیا جانا ضروری ہے۔

انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی نے کہا ہے کہ تارکین وطن کے ساتھ برتا جانے والا رویہ قابل مذمت ہے اور ظالم پالیسی سازوں کی وجہ سے امریکہ میں خاندانی اقدار اور انسانی حقوق کی بنیادیں کمزور پڑ رہی ہیں۔

امریکہ میں نسلی اور قومیتی تفریق کا معاملہ صدیوں سے چلا آرہا ہے، اور امریکہ کی آزادی سے پہلے، تقریبا ڈھائی سو سال تک مختلف علاقوں سے سیاہ فاموں کے بچوں کو زبردستی ان کے والدین سے چھین کر بطور غلام فروخت کیا جاتا رہا ہے۔

غلامی کے دور کے خاتمے کے باوجود امریکہ میں نسلی امتیازات کی پالیسی کی وجہ سے  دو طبقاتی نظام قائم ہوا جس میں دولت و ثروت اور رفاہ و آسائش سفید فاموں کے حصے میں آئی اور سیاہ فاموں کو غربت و تنگدستی بھری دنیا میں دھکیلا جاتا رہا۔آج دنیاجب اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے کا آغاز کرنے والی ہے اور انسانی حقوق کے احترام کا معاملہ عالمی مطالبے میں تبدیل ہوگیا ہے، امریکی حکام خاندانوں کو تباہ کرنے کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں۔البتہ اس بار تفریق کا معیار رنگ نہیں ہے بلکہ آج پناہگزینوں اور غیر قانونی تارکین وطن کے ساتھ وہی سلوک کیا جارہا ہےجو اس سے پہلے امریکہ میں سیاہ فاموں کے ساتھ کیا جاتا رہا ہے۔

پیغام کا اختتام/
آپ کا تبصرہ
نام:
ایمیل:
* رایے:
مقبول خبریں